جمعہ 14 اگست 2026 - 22:58
اسلام کے نام پرملک بنانے والے اہل سنت اور اہل تشیع دونوں تھے، ہر شہری کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے ،مگر کام کی عادت ہم میں بہت کم ہے: آیت الله سید ریاض نجفی

حوزہ/حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاہور پاکستان میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر نے کہا کہ اسلام کے نام پر ملک بنانے والے اہل سنت (بریلوی) اور اہل تشیع دونوں تھے؛ لہٰذا وطن عزیز کی تعمیر وترقی کے لیے ہر شہری کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ پاکستان 79 سال کا ہو گیا ہے۔ یومِ قیام پاکستان خوشی کا دن ہے۔ وطن عزیز کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ملکی سلامتی کے لیے دعاگو ہوں۔ کسی بھی ملک کو چلانے کے لئے علم، امن اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی جیسے معاملات درکار ہوتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں ان تینوں کی صورت حال کیسی ہے؟ سب جانتے ہیں، کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ ملک پر تاجر حکومت کر رہے ہیں، جن کا کام صرف منافع کمانا ہے، انہیں عوام کی اقتصادی معاشی صورت حال، روزگار اور ملک کی فکر نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوشحال، ترقی یافتہ اور پُرامن پاکستان قائم کریں۔

انہوں نے کہا ملک اسلام کے نام پر بنا اور اس کے بنانے والے اہل سنت اور اہل تشیع دونوں تھے، لیکن جب میں اہل سنت کہتا ہوں تو اس سے مراد بریلوی سنی ہیں، کیونکہ دیوبندیوں کی اکثریت نے تو قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔

حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاؤن لاہور میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے آیت الله سید حافظ ریاض نجفی نے کہا اس ملک کے ہر شہری کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے، مگر افسوسناک بات ہے کہ کام کی عادت ہم میں بہت کم ہے، ہماری تنظیمیں بھی وہ کام نہیں کر رہیں جس کی ضرورت ہے۔ ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ملک میں ہماری مساجد، مدارس، امام بارگاہیں، علماء، خطباء اور ذاکرین کی تعداد کتنی ہے؟ سماجی ادارے کتنے ہیں؟ لیکن کسی کو پتہ نہیں۔

آیت الله سید حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور امیر المؤمنین علیہ السّلام کے زمانے میں بیت المال کی تقسیم مساوات کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ حضرت ابوبکر کے دور میں بھی مساوات قائم رہی۔ بیت المال کی بندر بانٹ کا نظام بنو امیہ نے شروع کیا؛ افسوسناک بات ہے کہ ہمارے ملک میں بھی بنو امیہ والا اسلام ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha